Jammu and Kashmir : سرمایہ کاری کے مفاہمت ناموں پر نئی سیاسی بحث شروع ، سیاسی پارٹیوں نے سمٹ کو بی جے پی کا سیاسی ایجنڈہ بتایا

Jammu and Kashmir News : مرکزی زیر انتظام والے جموں و کشمیر کی سرکار نے پیر کے روز جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں یو ٹی کو ملک کے ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے لیے کھول دیا۔ اس موقع پر 18,300 کروڑ روپے کے 39 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ یہ ایم او یو ہاؤسنگ اور کمرشیل پروجیکٹس کی ترقی کے لیے دستخط کئے گئے
جموں و کشمیر: مرکزی زیر انتظام والے جموں و کشمیر کی سرکار نے پیر کے روز جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں یو ٹی کو ملک کے ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے لیے کھول دیا۔ اس موقع پر 18,300 کروڑ روپے کے 39 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ یہ ایم او یو ہاؤسنگ اور کمرشیل پروجیکٹس کی ترقی کے لیے دستخط کئے گئے ۔ ایم او یو پر دستخط کو تاریخی قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اس اقدام سے یوٹی کے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم سیاسی جماعتوں نے اس اقدام پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام کو سیاسی طور پر محرک قر jkار دیتے ہوئے کانگریس اور کچھ کشمیر مرکوز سیاسی جماعتوں نے اس پر اعتراض جتایا۔ پی ڈی پی نے الزام لگایا ہے کہ یہ اقدام جموں و کشمیر کے لوگوں کو بے اختیار کرنے کے لیے ہے، جبکہ جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے ریئل اسٹیٹ سمٹ کا خیرمقدم کیا ہے ، لیکن حکومت سے ایک تحریری حکم کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ اس سے یوٹی کے لوگوں کے حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جموں و کشمیر کانگریس نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ اس پالیسی کی تمام تفصیلات کو وضع کرے تاکہ جموں و کشمیر کے باشندوں کے مفاد پر سمجھوتہ نہ ہو۔

پی ڈی پی کے ترجمان سہیل بخاری نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر ملک کا واحد مسلم اکثریت والا مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے ، لہذا مرکزی سرکار یہاں کے لوگوں سے اختیارات چھین لینے، یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے اور یہاں کے قدرتی وسائل کو یو ٹی سے باہر لے جانے کے اپنے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ ہماری زمینیں اور قدرتی وسائل اپنے قبضے میں لینے کے لیے یکے بعد دیگرے 5 اگست 2019 سے حکم نامے جاری کئے جا رہے ہیں اور ریئل اسٹیٹ سے متعلق اٹھایا گیا یہ قدم بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے ریئل اسٹیٹ سمٹ منعقد کرنے کیلئے سرکار کو مبارکباد پیش کی ۔ تاہم انہوں نے اس سے متعلق کئی تحفظات کا ذکر بھی کیا۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ جہاں تک جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کئے جانے کا تعلق ہے ، ہماری جماعت اس کا خیر مقدم کرتی ہے، لیکن سرمایہ کاری کے نام پر چور دروازے سے جموں و کشمیر سے باہر رہائش پذیر لوگوں کو یہاں بسانا پارٹی کو قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ جموں و کشمیر کو یوٹی میں تبدیل کئے جانے کے بعد بنائے گئے ڈومیسائل قانون کے مطابق یہاں کی زرعی زمین صرف اور صرف یہاں کے ڈومیسائل ہی خرید سکتے ہیں۔ کل ہم نے دیکھا کہ سرکار نے جو ڈیولپمنٹ ایکٹ لایا ہے اس میں تحریر کیا گیا ہے کہ ” ڈومیسائل” لفظ کو ہٹایا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی بھی شخص جموں و کشمیر کا باشندہ بن سکتا ہے۔ اگر ایل جی منوج سنہا کہتے ہیں کہ اس سے کوئی ڈیموگرافی تبدیلی نہیں ہوگی تو سرکار باضابطہ طور پر ایک حکمنامہ جاری کرے کہ جموں و کشمیر میں تعمیر کئے جانے والے مکانات صرف اور صرف جموں و کشمیر کے ڈومیسائل باشندے ہی خرید سکتے ہیں جس سے یہ سارا معاملہ حل ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں