شامی دنیا کے تین بہترین گیندبازوں میں سے ایک:وراٹ

سنچورین//ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے محمد شامی کو اس وقت دنیا کے بہترین تین گیند بازوں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ انہوں نے میچ کے بعد کہا، ‘‘مجھے خوشی ہے کہ شامی نے اپنا 200واں وکٹ حاصل کیا اور میچ پراپنا اثر ڈالا۔’’ ہندوستان کی جنوبی افریقہ پر 113 رنوں سے جیت میں شامی نے پہلی اننگ میں پانچ اور دوسری میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ہندوستانی گیندبازی لائن اپ کا بیڑا اس وقت بھی اٹھایا جب چوٹ کے سبب جسپریت بمراہ تقریباً دو گھنٹے تک میدان سے دور رہے ۔ وراٹ کوہلی نے کہا، “شامی ایک ورلڈ کلاس گیند باز ہیں۔ میرے لئے تو وہ موجودہ وقت کے بہترین تین گیند بازوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی مضبوط کلائیاں، ان کی سیم پوزیشن اور مسلسل ایک ہی لینتھ پر گیندبازی انہیں بہترین بناتی ہے ۔ کپتان نے پوری فاسٹ باؤلنگ لائن اپ کی تعریف کی اور کہا، ‘‘جس طرح سے تمام گیند بازوں نے گیند بازی کی، وہ بہترین ہے ۔ یہ صرف اس میچ کی بات نہیں ہے ، وہ لگاتار دو تین سالوں سے ایساکر رہے ہیں۔ بارش سے متاثرہ اس میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیاتھا۔ اس دن ہندوستانی سلامی بلے بازوں نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے ہندوستان کو فیصلہ کن اسکور بنانے میں مدد کی۔ وراٹ نے کہا، “پہلے بلے بازی کرنا ایک مشکل چیلنج تھا، لیکن مینک اور راہل نے بہترین نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہم 300 سے 320 تک اسکور کر سکتے ہیں تو ہم میچ میں آگے ہوں گے ۔ ہمیں اپنے باؤلنگ یونٹ پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس اسکور کا اچھی طرح دفاع کر سکیں گے ۔ سنچورین میں ہندوستان کی یہ پہلی جیت ہے ۔ اب ہندوستان کی نظریں جنوبی افریقہ میں اپنی پہلی سیریز جیتنے پر ہیں۔ وراٹ نے کہا، “یہ ہمارے لیے ایک بہترین شروعات ہے ۔ ایک دن بارش میں دھل جانے کے باوجود ہم نے زبردست کرکٹ کھیلی اور جیت حاصل کی۔ جنوبی افریقہ کرکٹ کھیلنے کے لیے ایک مشکل جگہ ہے ، لیکن گزشتہ دورے میں جوہانسبرگ میں ملی جیت نے ہمیں بہت زیادہ اعتماد دیاتھا۔ یہ ایک ایسا گراؤنڈ ہے جہاں ہم کھیلنا بہت پسند کرتے ہیں۔ قابل ذکرہے کہ دوسرا ٹیسٹ میچ جوہانسبرگ میں ہونا ہے ، جہاں ہندوستانی ٹیم نے 2018 کے دورے میں اپنی واحد جیت درج کی تھی۔یو این آئی

اپنا تبصرہ بھیجیں